اس مضمون میں
- کلائنٹ اصل میں کس چیز کے پیسے دے رہا ہے
- مرحلہ 1: پوری سائٹ کریول کریں
- مرحلہ 2: دیکھیے گوگل نے اصل میں کیا انڈیکس کیا ہے
- مرحلہ 3: Core Web Vitals پاکستانی موبائل کنکشن پر ناپیے
- مرحلہ 4: آن پیج کی بنیادی چیزیں، صفحہ بہ صفحہ
- مرحلہ 5: انٹرنل لنکس
- مرحلہ 6: اردو اور انگریزی سائٹ کے لیے hreflang
- مرحلہ 7: ہوسٹنگ اور CDN کی اصلیت
- کون سے ٹولز واقعی چاہییں، اور خرچ کتنا
- آڈٹ اس طرح پیش کریں کہ اگلا کام بھی ملے
- اکثر پوچھے جانے والے سوالات
Fiverr یا Upwork پر کام لیں، یا گلبرگ کے کسی دکاندار کو SEO بیچیں، پہلی فرمائش تقریباً ہمیشہ “آڈٹ” کی ہوتی ہے۔ بیچنے کے لیے یہ سب سے سستی چیز ہے اور خراب طریقے سے ڈیلیور کرنے کے لیے سب سے آسان۔ کسی اسکینر سے نکالی ہوئی چالیس صفحوں کی PDF کلائنٹ کو اس کے کاروبار کے بارے میں کچھ نہیں بتاتی، اور دوسرا کانٹریکٹ تو بالکل نہیں دلاتی۔
نیچے وہی طریقہ ہے جو ہم خود کسی پاکستانی کلائنٹ کے لیے استعمال کرتے: سات چیک، اسی ترتیب میں، ہر ایک کے ساتھ ایک ٹول، ایک پاس یا فیل کی لائن، اور ایک جملہ جو سیدھا رپورٹ میں جا سکے۔ ہزار صفحوں سے چھوٹی سائٹ پر اس میں ایک کام کا دن لگتا ہے۔ زیادہ تر کام ان ٹولز پر چل جاتا ہے جو آپ کے پاس پہلے سے ہیں؛ جہاں کوئی پیڈ ٹول واقعی فرق ڈالتا ہے، وہاں ہم بتا دیں گے کہ وہ کس پلان میں ہے اور کب اسے خریدنا بے کار ہے۔
کلائنٹ اصل میں کس چیز کے پیسے دے رہا ہے
طارق روڈ پر فرنیچر کا شو روم چلانے والے کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ اس کی سائٹ کے 312 صفحوں پر meta description نہیں ہے۔ اسے یہ جاننا ہے کہ دو گلی چھوڑ کر بیٹھا مقابل “sofa set price in karachi” پر اس سے اوپر کیوں آتا ہے، اور اسے ٹھیک کرنے میں کتنا خرچ آئے گا۔
اس لیے آڈٹ کے تین حصے ہوتے ہیں، اور کریول ان میں صرف پہلا ہے۔ پہلا، findings: تکنیکی طور پر کیا ٹوٹا ہوا ہے، ثبوت کے ساتھ۔ دوسرا، priorities: ان سب میں کون سی پانچ چیزیں اہم ہیں، کس ترتیب میں، اور باقی چالیس کیوں انتظار کر سکتی ہیں۔ تیسرا، قیمت لکھا ہوا پلان: اگلے مہینے آپ کیا کریں گے اور اس کے کتنے پیسے لیں گے۔
نیچے کی ہر چیز پہلے حصے میں جاتی ہے۔ پیسہ دوسرے اور تیسرے حصے میں ہے، اور ان پر ہم آخر میں لوٹیں گے۔
مرحلہ 1: پوری سائٹ کریول کریں
کریولر وہی کرتا ہے جو Googlebot کرتا ہے: ہر صفحے پر جاتا ہے اور جو ملا اس کی فہرست بناتا ہے، یعنی status code، ریڈائریکٹ، title، heading، canonical، تصویروں کا سائز اور صفحے کی گہرائی۔ یہ سب سے پہلے کیجیے، کیونکہ آگے کا ہر مرحلہ تب آسان ہو جاتا ہے جب ہر URL پہلے سے آپ کی اسپریڈ شیٹ میں موجود ہو۔
Screaming Frog SEO Spider ڈیسک ٹاپ کریولر کا معیار ہے۔ اس کے پرائسنگ پیج (screamingfrog.co.uk/seo-spider/pricing/، 21 ستمبر 2026 کو دیکھا گیا) پر دو ورژن ہیں:
| بغیر لائسنس | لائسنس کے ساتھ | |
|---|---|---|
| کریول کی حد | 500 URL | کوئی مقررہ حد نہیں (وینڈر کا نوٹ: جتنی آپ کی مشین کی میموری ہے) |
| کریول محفوظ کر کے دوبارہ کھولنا | نہیں | ہاں |
| JavaScript رینڈرنگ | نہیں | ہاں |
| شیڈولنگ | نہیں | ہاں |
| Search Console، Analytics اور PageSpeed Insights انٹیگریشن | نہیں | ہاں |
| کسٹم ایکسٹریکشن اور کسٹم سرچ | نہیں | ہاں |
| دو کریولز کا موازنہ (پہلے اور بعد میں) | نہیں | ہاں |
| قیمت | کچھ نہیں | وینڈر کے صفحے پر £199 فی لائسنس فی سال، 21 ستمبر 2026 کو دیکھا گیا (یورو میں کھلنے پر وہی صفحہ €245 دکھا رہا تھا) |
پاکستان میں کسی چھوٹے کاروبار کی سائٹ کے لیے 500 URL اکثر کافی ہوتے ہیں۔ شو روم، کلینک، اسکول، لا فرم یا ٹریول ایجنسی کی سائٹ اتنے صفحوں تک پہنچتی ہی نہیں۔ مشکل اس دن شروع ہوتی ہے جس دن آپ تین ہزار پروڈکٹ صفحوں والے کسی Daraz سیلر، پراپرٹی پورٹل یا نیوز سائٹ کا کام لیتے ہیں۔ وہاں کریول 500 پر خاموشی سے رک جاتا ہے، یعنی آپ کی رپورٹ غلط ہے اور آپ کو پتہ بھی نہیں چلتا۔
حد سے ٹکرانے سے پہلے جن دو چیزوں کی کمی محسوس ہوگی، وہ ہیں کریول محفوظ کرنا (پچھلے مہینے والا کریول دوبارہ کھول کر موازنہ نہیں کر پائیں گے) اور JavaScript رینڈرنگ۔ پاکستان میں زیادہ تر کاروباری سائٹس WordPress پر ہیں اور بغیر رینڈرنگ کے ٹھیک کریول ہو جاتی ہیں، لیکن React یا Vue فرنٹ اینڈ، یا ایپس سے بھری ہوئی Shopify تھیم، آپ کو خالی صفحے دکھائے گی جب تک رینڈرنگ چالو نہ ہو۔
ہمارے ہاں Screaming Frog اکیلے ₨2,800/ماہ پڑتا ہے، اور یہ صرف Ultimate پلان میں ہے، Advanced میں نہیں۔ یہ پروگرام آپ کی اپنی مشین پر انسٹال ہو کر چلتا ہے، اس لیے خریدنے سے پہلے ٹول کے صفحے پر پڑھ لیجیے کہ ایکسیس کس طرح دیا جاتا ہے۔ اور اگر مہینے میں ایک چھوٹی سائٹ کا آڈٹ کرتے ہیں، تو بغیر لائسنس والا ورژن ہی ٹھیک ہے؛ اس صورت میں نہ ہمیں پیسے دیجیے، نہ وینڈر کو۔
کریول سے کیا نکالنا ہے
- ہر non-200 status code۔ انٹرنل لنکس سے آنے والے 404، ایک سے زیادہ hop والی 301 چینز، اور 5xx (سستی شیئرڈ ہوسٹنگ پر شام کے مصروف گھنٹوں میں عام بات ہے)۔
- ایک جیسے title اور 30 حروف سے چھوٹے title۔ جس سائٹ کو 2019 میں کسی کزن نے بنا دیا تھا، اس پر “Home” اور “Products” ہی title ہوتے ہیں۔
- وہ صفحے جو ہوم پیج سے چار کلک سے زیادہ دور ہیں۔ کریولر گہرائی دکھاتا ہے، اور اتنے گہرے صفحے عملاً گوگل کے لیے موجود ہی نہیں۔
- ایسے canonical ٹیگ جو کہیں اور اشارہ کر رہے ہوں، خاص طور پر http بمقابلہ https اور www بمقابلہ بغیر www والی گڑبڑ۔ یہاں کے ہوسٹ اکثر دونوں ورژن لائیو چھوڑ دیتے ہیں۔
- 300 KB سے بڑی تصویریں۔ ان پر اسپیڈ والے مرحلے میں لوٹیں گے۔
مرحلہ 2: دیکھیے گوگل نے اصل میں کیا انڈیکس کیا ہے
کریول بتاتا ہے کہ سائٹ پر کیا موجود ہے۔ Search Console بتاتا ہے کہ گوگل نے اس میں سے کیا رکھنے کے قابل سمجھا، اور ان دونوں کا فرق عام طور پر پورے آڈٹ کی سب سے قیمتی فائنڈنگ ہوتا ہے۔
کلائنٹ سے اس کی Search Console پراپرٹی کا owner ایکسیس مانگیے۔ اگر پراپرٹی ہے ہی نہیں، تو پہلے گھنٹے میں بنا دیجیے؛ DNS ریکارڈ یا HTML ٹیگ سے ویریفکیشن چند منٹ کا کام ہے، اور ڈیٹا جمع ہونا آج سے شروع ہو جائے گا، چاہے آڈٹ ایک بار کا ہی کیوں نہ ہو۔
Pages رپورٹ میں کیا دیکھنا ہے
- انڈیکس ہوئے صفحے بمقابلہ کریول میں ملے صفحے۔ کریول میں 800 صفحے ملے اور گوگل نے 140 انڈیکس کیے ہیں، تو باقی کو کوئی چیز روک رہی ہے۔
- “Crawled, currently not indexed”۔ گوگل نے صفحہ دیکھا اور رکھنے کے قابل نہیں سمجھا۔ یہاں کی ای کامرس سائٹس پر یہ تقریباً ہمیشہ پتلے پروڈکٹ صفحے ہوتے ہیں، جن پر سپلائر کی ایک لائن کی تفصیل ہے اور کچھ نہیں۔
- “Discovered, currently not indexed”۔ URL گوگل کو معلوم ہے اور اس نے جانے کی زحمت نہیں کی۔ بڑی سائٹس پر یہ عام طور پر کریول بجٹ یا ہوسٹنگ کی سستی کا اشارہ ہے۔
- “Duplicate without user-selected canonical”۔ فلٹر اور سورٹ پیرامیٹر،
?add-to-cart=والے URL، اور مرحلہ 1 والی http اور https کی جوڑی۔
جن پانچ صفحوں کی کلائنٹ کو سب سے زیادہ پرواہ ہے (ہوم، سب سے بڑی کیٹیگری، سب سے زیادہ بکنے والا پروڈکٹ، رابطہ، اور وہ صفحہ جسے وہ رینک ہوتے دیکھنا چاہتا ہے) ان پر URL Inspection چلائیے۔ کسی کمانے والے صفحے پر “URL is not on Google” آیا، تو وہ رپورٹ کے پہلے صفحے کی چیز ہے۔
کلائنٹ نے جو sitemap جمع کرایا ہے، اسے بھی کھولیے۔ حیرت کی حد تک کئی سائٹس 2022 میں بنا ہوا sitemap جمع کرائے بیٹھی ہیں، جس میں حذف ہو چکے صفحے ہیں اور اس کے بعد کا ایک بھی نیا صفحہ نہیں۔
Search Console میں ڈیٹا جمع ہونے کا انتظار کیے بغیر انڈیکسنگ پر دوسری رائے چاہیے، تو Semrush کا Site Audit سائٹ کو اپنے سرور سے کریول کرتا ہے اور سرچ میں جو ملتا ہے اس سے ملان کر دیتا ہے۔ ہمارے ہاں یہ ₨1,400/ماہ ہے اور ہمارے بیچے جانے والے ہر پلان میں ہے، Advanced سمیت۔
مرحلہ 3: Core Web Vitals پاکستانی موبائل کنکشن پر ناپیے
یہی وہ مرحلہ ہے جہاں لاہور کے دفتر میں فائبر پر کیا گیا آڈٹ لندن میں کیے گئے آڈٹ سے الگ نکلتا ہے، اور جہاں آپ کلائنٹ کو وہ بات بتا سکتے ہیں جو کوئی اسکینر نہیں بتائے گا۔
گوگل کی مقرر کردہ حدیں (web.dev پر شائع شدہ) یہ ہیں: Largest Contentful Paint ڈھائی سیکنڈ سے کم، Interaction to Next Paint 200 ملی سیکنڈ سے کم، اور Cumulative Layout Shift 0.1 سے کم، اصل وزٹس کے 75ویں پرسنٹائل پر۔ “اصل وزٹس” والا حصہ اہم ہے۔ آپ کے کلائنٹ کے وزیٹر Jazz، Zong، Telenor اور Ufone پر ہیں، اکثر ایسے 4G پر جو صدر میں شام چھ بجے 3G جیسا برتاؤ کرتا ہے، اور زیادہ تر ان اینڈرائیڈ فونز پر جن میں 3 یا 4 GB RAM ہے۔
دو ذرائع ہیں، اور دونوں چاہییں:
- فیلڈ ڈیٹا۔ PageSpeed Insights اس URL اور پورے origin کے لیے Chrome User Experience Report دکھاتا ہے، بشرطیکہ ٹریفک اتنی ہو کہ ڈیٹا بن سکے۔ گوگل اصل میں یہی عدد استعمال کرتا ہے۔ چھوٹی مقامی کاروباری سائٹ پر اکثر فیلڈ ڈیٹا ہوتا ہی نہیں، اور یہ خود ایک فائنڈنگ ہے: ناپنے لائق Chrome وزیٹر ہی نہیں ہیں۔
- لیب ڈیٹا۔ Lighthouse، چاہے PageSpeed Insights سے چلائیے یا Chrome DevTools سے throttling کو “Slow 4G” پر رکھ کر۔ دفتر کے کنکشن پر بغیر throttling کے چلا کر سبز اسکور رپورٹ مت کیجیے۔ وہ نمبر آپ کے کنکشن کی تفصیل ہے، گاہک کی نہیں۔
مقامی سائٹس پر عام وجوہات
- ہوم پیج پر ہیرو سلائیڈر، جس میں فوٹوگرافر سے سیدھی آئی ہوئی چار 2 MB کی JPEG لگی ہیں۔
- WordPress تھیم جو ایک حرف دکھانے سے پہلے Elementor، تین سلائیڈر پلگ اِن اور Google Fonts سے دو فونٹ لوڈ کرتی ہے۔
- واٹس ایپ چیٹ بٹن، Facebook Pixel، Google Tag Manager اور Tawk.to کا ببل، چاروں head میں۔
- شیئرڈ ہوسٹنگ جس کا time to first byte ایک سیکنڈ سے اوپر ہے، جسے کسی بھی فرنٹ اینڈ فکس سے نہیں بچایا جا سکتا۔
ہوم پیج اور سب سے بڑے لینڈنگ پیج کا LCP، Slow 4G پر، تاریخ کے ساتھ رپورٹ میں لکھیے۔ فکس کے بعد دوبارہ ناپیے، اور آپ کے پاس پہلے اور بعد کا وہ موازنہ ہوگا جسے کلائنٹ اپنے ہی فون پر دیکھ سکتا ہے۔
مرحلہ 4: آن پیج کی بنیادی چیزیں، صفحہ بہ صفحہ
کریول کا ایکسپورٹ آپ کے پاس ہے، اس لیے یہ زیادہ تر اسپریڈ شیٹ سورٹ کرنے کا کام ہے۔ جس بھی صفحے کو رینک کرنا ہے، اس پر دیکھیے:
- Title ٹیگ: الگ، تقریباً 60 حروف کے اندر، جس میں کوئری ہو اور کاروبار مقامی ہے تو شہر بھی۔ “Dental clinic in DHA Lahore | Dr Ahmed” کا مقابلہ “Home” سے نہیں ہے۔
- Meta description: موجود ہو اور پورے جملے میں لکھی ہو۔ گوگل زیادہ تر کو خود بدل دیتا ہے، پھر بھی اس کا نہ ہونا بتاتا ہے کہ سائٹ پر کسی نے توجہ نہیں دی۔
- ایک H1، جو title کے ارادے سے میل کھائے۔ کئی مقامی تھیمیں ہر صفحے پر لوگو کو ہی H1 میں لپیٹ دیتی ہیں۔
- کوئری کی زبان۔ یہاں بہت سی سرچ رومن اردو میں ٹائپ ہوتی ہے: “sasta laptop lahore”، “shadi hall karachi rates”، “solar panel price islamabad”۔ Search Console کی Performance رپورٹ کھولیے، جن صفحوں کو پہلے سے impression مل رہے ہیں ان پر کوئری فلٹر کیجیے، اور اصل ہجے سامنے آ جائیں گے۔ لکھنا اسی کے حساب سے ہے، اس انگریزی میں نہیں جو کوئی ایجنسی پچ ڈیک میں استعمال کرتی ہے۔
- پتلے صفحے۔ 150 الفاظ سے کم کا کوئی بھی صفحہ جس سے رینکنگ کی امید ہے۔ مینوفیکچرر کی اسپیک شیٹ چپکا کر بنائے گئے پروڈکٹ صفحے اس کی سب سے عام مثال ہیں۔
کلائنٹ کو جلدی کوئی ایسا اسکور دکھانا ہو جو اسے سمجھ آ جائے، تو Woorank ڈومین اسکین کر کے گریڈ والی رپورٹ دیتا ہے، جس میں ہر چیز کی سیدھی سادی وضاحت ساتھ ہوتی ہے۔ یہ کریول کا متبادل نہیں، اور کچھ باتیں وہی دہراتا ہے جو Lighthouse بتا چکا ہوتا ہے، لیکن اس کا ایکسپورٹ دکاندار آپ کے بغیر بیٹھے بھی پڑھ لیتا ہے۔ یہ ₨1,400/ماہ ہے اور Advanced پلان میں آتا ہے۔
مرحلہ 5: انٹرنل لنکس
چھوٹی سائٹ پر رینکنگ کا سب سے سستا لیور انٹرنل لنکس ہیں، اور تقریباً ہمیشہ انہیں چھوڑ دیا جاتا ہے، کیونکہ سائٹ صفحوں کے ایک سیٹ کی طرح بنی تھی اور اس کے بعد کسی نے اسے چھوا نہیں۔
کریول ایکسپورٹ سے:
- inlinks کے حساب سے سورٹ کیجیے۔ جن کمانے والے صفحوں پر ایک یا دو ہی انٹرنل لنک ہیں (عام طور پر صرف مینیو سے)، وہ کم لنک والے صفحے ہیں۔ بلاگ پوسٹس، اگر ہیں بھی، تو شاید ہی اس پروڈکٹ یا سروس کے صفحے سے جڑتی ہیں جن کے بارے میں وہ لکھی گئی ہیں۔
- یتیم صفحے ڈھونڈیے: جو sitemap یا Search Console میں ہیں، مگر کریولر ہوم پیج سے چل کر وہاں کبھی پہنچا ہی نہیں۔ پرانے Google Ads کیمپین کے لینڈنگ پیج اس کی عام مثال ہیں۔
- اینکر ٹیکسٹ دیکھیے۔ ہر جگہ “یہاں کلک کریں” اور “read more” گوگل کو کچھ نہیں بتاتا۔ “لاہور میں کچن کیبنٹ کی قیمت” والی بلاگ پوسٹ سے کچن کیٹیگری کو جانے والے لنک میں یہی بات لکھی ہونی چاہیے۔
- سائٹ کے اندر ریڈائریکٹ چینز پکڑیے۔ ایسے انٹرنل لنکس جو ایک یا دو 301 سے گزرتے ہیں، سیدھی بربادی ہیں؛ لنک کو آخری URL پر بدل دیجیے۔
پورے آڈٹ کی سب سے آسان quick win اسی مرحلے سے نکلتی ہے۔ ایک دوپہر میں صحیح صفحوں پر جوڑے گئے دس انٹرنل لنکس کسی کم مقابلے والی مقامی کوئری پر صفحے کو پندرہویں سے آٹھویں نمبر تک لا سکتے ہیں، اور کلائنٹ کا اس میں آپ کے وقت کے علاوہ کوئی خرچ نہیں۔
مرحلہ 6: اردو اور انگریزی سائٹ کے لیے hreflang
دو زبانوں والی سائٹس یہاں عام ہیں اور تقریباً ہمیشہ غلط سیٹ ہوتی ہیں۔ جو نمونے ہمیں دکھتے ہیں: ترجمے کے پلگ اِن سے چپکایا گیا اردو ورژن، /ur/ فولڈر جو انگریزی سائٹ کی نقل ہے اور جس میں صرف مینیو اردو میں ہے، یا دو الگ ڈومین جن کے بیچ کوئی رشتہ ہی نہیں بتایا گیا۔
کیا کیا دیکھنا ہے:
- کیا اردو ورژن الگ URL پر ہے؟ ایسا JavaScript ٹوگل جو URL بدلے بغیر اسی صفحے پر متن بدل دیتا ہے، گوگل کو ایک ہی صفحہ، ایک ہی زبان میں دیتا ہے، اور اردو مواد اس کے لیے ہے ہی نہیں۔
langاورdirایٹریبیوٹ۔ اردو صفحوں پرhtmlایلیمنٹ پرlang="ur"اورdir="rtl"ہونا چاہیے۔ ہم نے جتنی اردو سائٹس کریول کی ہیں، ان میں سے آدھی پر ہر صفحے پرlang="en"لکھا ملا، کیونکہ تھیم نے اسے ہارڈ کوڈ کر رکھا ہے۔- hreflang کی جوڑیاں۔ ہر انگریزی صفحے کو اپنے اردو جڑواں صفحے کا پتہ دینا چاہیے اور اردو صفحے کو انگریزی کا،
ur-PKاورen-PK(یا سادہurاورen) کے ساتھ، اوپر سے ایکx-default۔ صرف ایک طرف سے دیا گیا حوالہ گوگل کے لیے برابر ہے اس کے کہ دیا ہی نہ جائے۔ Screaming Frog کی hreflang رپورٹ بغیر لائسنس والے ورژن میں بھی چلتی ہے اور ایک ہی جگہ بتا دیتی ہے کہ کہاں واپسی کا لنک غائب ہے۔ - دونوں زبانیں ایک ہی صفحے پر مت ڈالیے۔ اوپر انگریزی، نیچے اردو والا شارٹ کٹ عام ہے اور دونوں کو کمزور کرتا ہے۔
- فونٹ۔ نستعلیق میں اردو کے لیے ویب فونٹ چاہیے (عام طور پر Noto Nastaliq Urdu یا جمیل نوری نستعلیق)، اور یہ فائلیں ہلکی نہیں ہوتیں۔ یہ سیدھا مرحلہ 3 سے جڑ جاتا ہے: Slow 4G پر ڈیڑھ MB کا فونٹ ہر اردو صفحے کا LCP حد کے پار دھکیل دیتا ہے۔ subsetting اور
font-display: swapفکس کا حصہ ہیں۔
اگر کلائنٹ کے پاس صرف انگریزی سائٹ ہے اور اس کے گاہک اردو بولنے والے ہیں، تو رپورٹ میں “hreflang لگائیں” لکھنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ وہاں اصل فیصلہ یہ ہے کہ اردو ورژن بنانے میں فائدہ ہے یا نہیں، اور وہ ایک الگ پروپوزل ہے جس کی آپ الگ قیمت لگا سکتے ہیں۔
مرحلہ 7: ہوسٹنگ اور CDN کی اصلیت
ہوسٹنگ آپ آڈٹ میں ٹھیک نہیں کر سکتے، لیکن اس کی تشخیص ضروری ہے، کیونکہ وہ باقی ہر چیز کی حد طے کر دیتی ہے۔
- سرور کہاں ہے؟ traceroute چلائیے یا IP کی لوکیشن دیکھ لیجیے۔ کئی مقامی سائٹس امریکہ یا جرمنی کی شیئرڈ ہوسٹنگ پر بیٹھی ہیں، صرف اس لیے کہ ری سیلر نے وہی بیچا تھا۔ ہر ریکویسٹ سمندر پار جاتی ہے، اور شام کے رش میں پہلے بائٹ سے پہلے ہی کئی سو ملی سیکنڈ جڑ جاتے ہیں۔
- Time to first byte۔ اسے کریول سے ناپیے (Screaming Frog ہر URL کا ریسپانس ٹائم ریکارڈ کرتا ہے) اور PageSpeed Insights سے بھی۔ ہوم پیج پر 800 ms سے اوپر کا مطلب ہوسٹنگ ہے؛ تھیم بدل کر وہ ٹھیک نہیں ہوگا۔
- CDN ہے یا نہیں؟ ریسپانس ہیڈر میں
cf-ray،x-cacheیا اس جیسا کچھ دیکھیے۔ زیادہ تر مقامی سائٹس کے لیے Cloudflare کا بغیر قیمت والا ٹیئر عملی جواب ہے: وہ اسٹیٹک فائلیں وزیٹر کے قریب رکھتا ہے اور سست origin کو کسی حد تک ڈھک دیتا ہے۔ پاکستان میں اس کے کون سے points of presence اس وقت چالو ہیں، یہ اندازے سے ماننے کے بجائے Cloudflare کے نیٹ ورک میپ پر دیکھ لیجیے۔ - HTTPS۔ مقامی کاروباری سائٹس پر یہ اب بھی ہر جگہ نہیں ہے۔ جس صفحے پر فون نمبر مانگا جا رہا ہو، وہاں Chrome کا
Not secureلیبل رینکنگ سے زیادہ کنورژن کا مسئلہ ہے۔ - اپ ٹائم۔ کلائنٹ سے پوچھیے کہ کیا سائٹ “کبھی کبھی کھلتی ہی نہیں”۔ جواب ہاں ہو، تو رپورٹ لکھنے سے پہلے ایک ہفتے کا مانیٹرنگ چیک لگا دیجیے۔ جو سائٹ روز دو گھنٹے بند رہتی ہے، اس کا مسئلہ meta description سے کہیں بڑا ہے۔
ہوسٹنگ کی فائنڈنگز رپورٹ میں الگ سیکشن کے طور پر لکھیے، تجویز اور ہوسٹ کے اپنے صفحے سے لیا ہوا موٹا ماہانہ خرچ روپوں میں ساتھ رکھ کر۔ “آپ کی ہوسٹنگ آپ کے گاہک کھا رہی ہے” بات کلائنٹ کو کسی بھی Lighthouse میٹرک سے بہتر سمجھ آتی ہے۔
کون سے ٹولز واقعی چاہییں، اور خرچ کتنا
چھوٹی سائٹ کے لیے یہ پورا آڈٹ Search Console، PageSpeed Insights، Chrome DevTools اور Screaming Frog کے 500-URL ورژن پر چل جاتا ہے، اور ان میں سے کسی کا کوئی خرچ نہیں۔ ٹول تب خریدیے جب وہ چھوٹے پڑنے لگیں، اس سے پہلے نہیں۔
جن چار ٹولز کی طرف ہم ہاتھ بڑھاتے، اور ہماری کیٹلاگ میں وہ کہاں ہیں:
| ٹول | آڈٹ میں اس کا کام | ہمارے ہاں | پلان |
|---|---|---|---|
| Screaming Frog | 500 سے زیادہ URL کا کریول، کریول محفوظ کرنا، JavaScript رینڈر کرنا | ₨2,800/ماہ | صرف Ultimate |
| Semrush | کلاؤڈ سائٹ آڈٹ، کی ورڈ ڈیٹا، انڈیکسنگ پر دوسری رائے | ₨1,400/ماہ | Essential، Boost، Advanced، Ultimate |
| SE Ranking | شیڈول کیے گئے آڈٹ، رینک ٹریکنگ، کلائنٹ کے لیے وائٹ لیبل رپورٹ | ₨1,400/ماہ | صرف Ultimate |
| Woorank | گریڈ والی چھوٹی رپورٹ جو کلائنٹ خود پڑھ لے | ₨1,400/ماہ | Boost، Advanced، Ultimate |
کچھ بھی خریدنے سے پہلے تین باتیں ذہن میں رکھیے۔
Screaming Frog اور SE Ranking صرف Ultimate پلان میں ہیں۔ Advanced پلان ₨8,300/ماہ میں 25 ٹولز دیتا ہے اور اس میں Semrush اور Woorank ہیں، ساتھ Ahrefs، Moz Pro، Canva اور ChatGPT بھی، لیکن اس مضمون کے دونوں بنیادی آڈٹ ٹولز اس میں نہیں ہیں۔ اگر آپ یہاں خاص طور پر Screaming Frog کے لیے آئے تھے، تو Advanced آپ کے لیے غلط پلان ہے۔
چاروں ٹولز الگ الگ خریدنے پر کسی بھی پلان سے سستے پڑتے ہیں۔ اوپر کی چار سنگل قیمتیں جوڑیے اور Advanced کے ₨8,300/ماہ یا Ultimate کے ₨13,600/ماہ سے موازنہ کر لیجیے۔ اگر آپ کا کام صرف آڈٹ ہے، تو سنگل ٹول ہی لیجیے۔ 91 ٹولز والا Ultimate تبھی سمجھ میں آتا ہے جب آپ اس میں موجود ڈیزائن، AI اور ویڈیو ٹولز بھی استعمال کرتے ہوں، جو SEO کے ساتھ کانٹینٹ اور سوشل بیچنے والے فری لانسر کے لیے ممکن ہے (کانٹینٹ اسٹیک کے خرچ والی پوسٹ میں یہی حساب لگایا گیا ہے)۔ صرف کلائنٹ رپورٹنگ کے لیے بھی SE Ranking اپنی جگہ ₨1,400/ماہ کے قابل ہے، اور اس کی تفصیل اسی ریویو میں ہے۔
شیئرڈ ایکسیس کی اپنی حدیں ہیں۔ لاگ اِن براؤزر میں ڈیش بورڈ سے ہوتا ہے؛ API keys نہیں ملتیں، اس لیے جس بھی چیز کو API چاہیے (جیسے Screaming Frog کا PageSpeed Insights انٹیگریشن، جس کے لیے آپ کی اپنی Google API key لگتی ہے، اور وہ الگ معاملہ ہے) وہ پرسنل لائسنس سے مختلف طریقے سے چلتی ہے۔ اکاؤنٹس وقتاً فوقتاً ری سیٹ ہوتے ہیں، fair-use کی حدیں لاگو ہیں، اور جب کئی لوگ ایک ساتھ کلاؤڈ ٹول سے کریول چلاتے ہیں تو سب کے لیے سست پڑ جاتا ہے۔ بھاری کریول پاکستانی دن کے وقت پلان کیجیے، جب اکاؤنٹ شیئر کرنے والی دوسری مارکیٹوں میں رات ہوتی ہے۔ ایک بار کے آڈٹ کے لیے یہ سودا ٹھیک ہے۔ تیس کلائنٹ سائٹس پر شیڈول شدہ آڈٹ چلانے والی ایجنسی کے لیے نہیں؛ وہاں وینڈر کا لائسنس ہی لیجیے۔
ادائیگی پر: پاکستان کے خریداروں کے لیے کارڈ آج چل رہے ہیں، اور USDT ہر جگہ۔ Easypaisa اور JazzCash جلد آ رہے ہیں، اس لیے اگر آپ کو والٹ سے ادائیگی کرنی ہے تو اسے چالو مان کر منصوبہ مت بنائیے، اس کے آنے کا انتظار کیجیے۔ پرائسنگ پیج پر مارکیٹ PK کرتے ہی ہر پلان روپوں میں دکھتا ہے، اور پوری کیٹلاگ پاکستان والی گائیڈ میں ہے۔
آڈٹ اس طرح پیش کریں کہ اگلا کام بھی ملے
کلائنٹ کو رپورٹ ہی یاد رہتی ہے۔ کچھ اصول، جو لاہور اور کراچی سے یہ کام کرنے والے لوگوں کے لیے کام کر چکے ہیں:
شروعات تین فائنڈنگز سے کیجیے۔ پہلا صفحہ یہ ہو: سب سے بڑا مسئلہ، اس کی قیمت کلائنٹ کے لیے (گاہکوں میں، رینکنگ میں، اور جہاں اندازہ لگا سکیں وہاں روپوں میں)، اور اسے ٹھیک کرنے میں کیا لگے گا۔ پوری اسپریڈ شیٹ appendix میں چلی جائے جسے کوئی نہیں پڑھتا، اور یہ ٹھیک ہے؛ وہ ثابت کرتی ہے کہ کام ہوا ہے۔
کلائنٹ کو اس کا اپنا فون دکھائیے۔ میٹنگ میں اس کی سائٹ Slow 4G پر مقابل کی سائٹ کے ساتھ کھولیے، یا بیس سیکنڈ کی اسکرین ریکارڈنگ بھیج دیجیے۔ نمبر سن کر کسی کو کچھ محسوس نہیں ہوتا؛ چھ سیکنڈ تک گھومتا ہوا لوڈر دیکھ کر ہوتا ہے۔
فکس کی قیمت لکھیے۔ ہر آڈٹ کے آخر میں ایک صفحے کا پروپوزل ہو: “پہلا مہینہ: ہوسٹنگ کی منتقلی اور تصویروں کی کمپریشن، اتنے روپے۔ دوسرا مہینہ: بارہ صفحوں کی آن پیج دوبارہ لکھائی، اتنے روپے۔” آڈٹ سستی بکری ہے؛ پیسہ اسی پروپوزل سے آتا ہے۔ مقامی کلائنٹ کو روپوں میں کوٹیشن دیجیے اور Upwork یا Fiverr پر ڈالر میں، جہاں پیسہ ویسے بھی پلیٹ فارم کے پاس رہتا ہے۔
PDF اور شیئر کی ہوئی شیٹ، دونوں بھیجیے۔ Fiverr والے کلائنٹ کو فائل چاہیے ہوتی ہے۔ مقامی کلائنٹ کو ایسی چیز چاہیے جسے وہ اپنے ڈویلپر کو واٹس ایپ پر فارورڈ کر سکے، اور وہ ڈویلپر اکثر کوئی رشتہ دار نکلتا ہے۔ URL کی فہرست اور پاس یا فیل کالم والی شیٹ اصل میں وہی استعمال کرے گا۔
پہلے اور بعد کے موازنے کا انتظام پہلے ہی کر لیجیے۔ کریول محفوظ کر لیجیے (پیڈ Screaming Frog سے، یا SE Ranking کے شیڈول شدہ آڈٹ سے، دونوں صرف Ultimate میں ہیں، یا پھر سادہ ایکسپورٹ رکھ لیجیے)۔ ساٹھ دن بعد دوبارہ چلا کر بغیر مانگے موازنہ بھیج دیجیے۔ اس کام میں سب سے آسان اپ سیل وہی ای میل ہے۔
نتیجے کو بڑھا چڑھا کر مت بیچیے۔ سائٹ خراب ہوسٹنگ پر ہے اور اس پر مواد نہیں ہے، تو صاف کہہ دیجیے کہ جب تک یہ دو چیزیں ٹھیک نہیں ہوتیں، آڈٹ سے رینکنگ نہیں بدلے گی، اور ان دونوں کی قیمت لگا دیجیے۔ اس مارکیٹ کے کلائنٹ “پہلے صفحے کی گارنٹی” دینے والی ایجنسیوں سے پہلے ہی جل چکے ہیں؛ جو فری لانسر کہتا ہے کہ “تین مہینے لگیں گے اور وجہ یہ ہے”، ریفرل اسی کو ملتا ہے۔
یہی سات مرحلے ہر کلائنٹ پر دہرائیے اور آڈٹ ایک ٹیمپلیٹ بن جاتا ہے۔ دوسرے کلائنٹ پر آدھا وقت لگتا ہے، اور پانچویں پر ایک صبح۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
پاکستانی کلائنٹ کی سائٹ کے لیے Screaming Frog کا 500-URL ورژن کافی ہے؟
کلینک، شو روم، اسکول، ریسٹورنٹ یا سروس بزنس کے لیے عام طور پر ہاں؛ ایسی سائٹس شاید ہی 200 صفحے پار کرتی ہیں۔ آن لائن اسٹور، پراپرٹی پورٹل، نیوز سائٹ، یا فلٹر اور pagination والی کسی بھی سائٹ کے لیے نہیں، اور کریول 500 پر بغیر اطلاع رک جائے گا۔ فیصلہ کرنے سے پہلے Search Console میں صفحوں کی گنتی دیکھ لیجیے۔
Screaming Frog اور SE Ranking کس پلان میں ہیں؟
صرف Ultimate پلان میں۔ Advanced میں ان میں سے کوئی نہیں ہے۔ اگر آپ کو صرف یہی دو چاہییں، تو انہیں سنگل ٹول کے طور پر ₨2,800/ماہ اور ₨1,400/ماہ پر لینا کسی بھی پلان سے سستا ہے، اور پورا حساب پرائسنگ پیج پر دکھ جائے گا۔
ٹیکنیکل آڈٹ کے لیے Semrush یا Ahrefs ضروری ہے؟
نہیں۔ ٹیکنیکل آڈٹ ایک کریولر، Search Console اور PageSpeed Insights پر چل جاتا ہے۔ Semrush کی ضرورت تب پڑتی ہے جب آپ “کیا ٹوٹا ہے” سے آگے بڑھ کر “اس سائٹ کو کن چیزوں پر رینک کرنا چاہیے” پر آتے ہیں، یعنی پروپوزل والے مرحلے پر۔ وہ ہمارے ہر پلان میں ہے، Essential سمیت، اس لیے اس مرحلے پر کی ورڈ ڈیٹا جوڑنے کا سب سے سستا راستہ یہی ہے۔
Core Web Vitals کو پاکستانی صارف کے تجربے کی طرح کیسے ناپیں؟
پہلے PageSpeed Insights میں اصل Chrome صارفین کا فیلڈ ڈیٹا دیکھیے؛ سائٹ اتنی چھوٹی ہے کہ ڈیٹا ہے ہی نہیں، تو Chrome DevTools میں Lighthouse چلائیے، network throttling کو Slow 4G اور CPU throttling کو 4x پر رکھ کر، اور وہی رپورٹ کیجیے۔ دفتر کے کنکشن پر بغیر throttling والا رن کبھی رپورٹ مت کیجیے۔
اردو اور انگریزی سائٹ کے لیے hreflang کیسے لگائیں؟
ہر زبان کے لیے الگ URL، اردو صفحوں پر lang="ur" اور dir="rtl"، اور ہر صفحے پر دونوں ورژن کی طرف اشارہ کرتے hreflang ٹیگ، ساتھ ایک x-default۔ دونوں سمتوں میں ٹیگ ہونا ضروری ہے، ورنہ گوگل جوڑی کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ Screaming Frog کی hreflang رپورٹ، جو بغیر لائسنس والے ورژن میں بھی ہے، بتا دیتی ہے کہ واپسی کے لنک کہاں چھوٹے ہیں۔
کیا BundledSEO کی ادائیگی Easypaisa یا JazzCash سے ہو سکتی ہے؟
ابھی نہیں۔ پاکستان کے خریداروں کے لیے آج کارڈ اور USDT چل رہے ہیں؛ Easypaisa اور JazzCash جلد آ رہے ہیں۔ جب تک کوئی والٹ چیک آؤٹ پر چالو نظر نہ آئے، اس کے سہارے خریداری کا منصوبہ مت بنائیے۔
پاکستان میں SEO آڈٹ کی قیمت کتنی ہونی چاہیے؟
فری لانسر کی فیس ہم طے نہیں کرتے، اور رینج بہت چوڑی ہے: ٹیمپلیٹ رپورٹ مقامی گروپوں میں چند ہزار روپے میں بک جاتی ہے، جبکہ قیمت لکھے پروپوزل کے ساتھ پورا سات مرحلوں کا آڈٹ اس کاروبار کو کہیں زیادہ میں بکتا ہے جس کی آمدنی داؤ پر ہے۔ آڈٹ سستا رکھیے اگر اس سے ماہانہ ریٹینر بنتا ہے، اور پوری قیمت لیجیے اگر اس کلائنٹ کے ساتھ یہی اکلوتا کام ہے۔
Screaming Frog جیسے ڈیسک ٹاپ ٹول پر شیئرڈ ایکسیس چلتا ہے؟
اس کا طریقہ کلاؤڈ ٹولز سے الگ ہے، کیونکہ پروگرام براؤزر ٹیب میں نہیں، آپ کی اپنی مشین پر چلتا ہے۔ خریدنے سے پہلے ٹول کے صفحے پر پڑھ لیجیے کہ ایکسیس کس طرح ملتا ہے، اور یہ یاد رکھیے کہ جس بھی انٹیگریشن کو آپ کی اپنی Google API key چاہیے (PageSpeed Insights، Search Console)، وہ آپ کی طرف سے سیٹ ہوتی ہے، چاہے لائسنس کہیں سے بھی آیا ہو۔